50سال بعد جیل سے رہائی اور جرم ثابت نہ ہو سکا.

65 سالہ ولبرٹ جونزجوکہ 19 سال کی عمر میں ایک مقامی نرس کو اغواہ اور عصمت دری کے جرم میں 1972 میں گرفتار کیا گیا تھا، کو جج نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے15 نومبر کو رہا کر دیا .
اس موقع پر ولبرٹ جونز نے میڈیا سے بات کرتے ہو کہا کہ وہ اپنی فیملی کے شکرگزار ہیں جنہوں نے اس کا ساتھ کبھی نہ چھوڑا. یاد رہے کہ امریکہ میں سیاہ فاموں کے انسانی حقوق کے ایسے بے شمار واقعے ملتے ہیں .
ولبرٹ جونز پر جس نرس کی عصمت دری کرنے اور اغوا کرنے کا الزام تھا اس کی وفات 2008 میں ہو چکی ہے اور اس نے 50 سال پہلے ولبرٹ جونز کو اس جرم کے تین ماہ بعد پولیس کے شناختی عمل میں یہ کہتے ہوئے شناخت کیا تھا کہ اسکی ساتھ زیادتی کرنے والا شخص ولبرٹ جونز ہے لیکن اس کی آواز اور قد مجرم سے نہیں ملتے .
اس موقع پر جج نے کہا کہ نرس کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص بھی گرفتار ہوا لیکن اس پر جرم ثابت نہ ہو سکا . اور اسکو رہا کردیا گیا، وہی شخص 27 دن بعد ایک اور واقعے میں ملوس پایا گیا لیکن اسکو بندوق رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور بعد میں رہا کر دیا گیا.
جیل کے افسر نے بھی عدالت میں گواہی دی کہ مسٹر ولبرٹ کا جیل میں رویہ انتہاہی شریف تھا . دوسری جانب نرس جو کہ اب اس دنیا میں نہ رہی کے خاوند نے اس فیصلے کو تسلیم کیا ہے اور وکیل کے توست سے کہا کہ مسٹر ولبرٹ کے لیے 50 سال کی سزا کافی ہے اور یہ کہ وہ اپنی زندگی کے باقی دن اپنی فیملی کے ساتھ گزار سکیں.

© Gerald Herbert—AP

Facebook Comments