بےبی چارلی کا معاملہ معمہ بن گیا

<span class=" class="avatar avatar-200 wp-user-avatar wp-user-avatar-200 photo avatar-default" />
دنیاسائنس و ٹیکنالوجی
20
0

چارلی گارڈ جو کہ10 مہینوں کا ایک چھوٹا سا بچہ ہے .جوکہ ایک ٹرمنلی بیماری میں مبتلا ہےاور آج کل دنیا بھر کے زرائع ابلاگ کی نظریں اس پر ہیں.چارلی کی بیماری جوکہ پوری دنیا میں 16واں ایسا بیماری کا واقع ہے اور اس بیماری جسکا نام مائیٹوکانڈریل ڈی این اے ڈیپلیٹیشن سنڈروم ہے میں مبتلا ہے . اس بیماری کی وجہ سے چارلی نا ہی، سن سکے گا ، نا ہی بول سکے گا اور نا ہی سانس لے سکتا ہے . اور اب تک اسکا بیشتر دماغ بھی مفلوج ہو چکا ہے .چارلی جوکہ انگلستان میں پیدا ہوا ہے کا واخد علاج وہ بھی تجرباتی علاج ہوگا امریکہ میں ہی ممکن ہے . یہ علاج نیکلیوسائیڈ تھراپی کہلاتا ہے . چارلی کے والدین نے گو فنڈ می نامی ویب سائیٹ پر لوگوں سے مالی تعاون کی اپیل کی تھی ، اسکا مقصد 1.5 ملین ڈالر جمع کرنا تھا جو کہ چارلی کو نجی پرواز کے زریعے امریکہ پہنچانے اور علاج کے لیے درکار تھے. چارلی انگلینڈ کے جس ہسپتال میں زیرعلاج ہے انکا کہنا ہے کہ اس علا ج کا چارلی کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا اور چارلی کے لیے اچھا یہی ہے کہ اسکو زندہ رکھنی والی مشینوں کو بند کر دیا جائے تاکہ وہ سکون سے اس دنیا سے رخصت ہو سکے . چارلی کے والدین نے اس معاملے کو انگلستان کے اعلی عدالت میں لے جا کر اسکو امریکہ لے جانے کی اجازت مانگی تھی. عدالت کے انکار پر چارلی کے والدین نے اس معاملے کو یورپین کورٹ میں اٹھایا . یورپین کورٹ نے بھی یہ فیصلہ برقرار رکھا اور چارلی کی رخصتی کا حکم سادر کیا . چارلی کے والدین نے چارلی کو گھر میں لے جانے کی استعدا کی جو کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے مسترد کر دی . اب پوپ روم نے چارلی کو ویٹیکن شہر میں مدعوں کیا ہے تاکہ چارلی کو مزہبی طریقے سے رخصت کیا جا سکے لیکن لندن کے سابقہ میئر نے اسے بھی مسترد کر دیا ہے . ان سب کے خیال میں ایسا کرنا چارلی کو مزید اذیت دینے کے مترادف ہے .

Facebook Comments