حلقہ 2کی سیاست اورچودھری عبدالمجیدکاجانشین

اداریےکالم
15
0

یہ نہ توپہلا اور نہ ہی کوئی منفرد فیصلہ ہوگا ،آزاد کشمیر اور پاکستان میں موروثی طرز سیاست کا رواج دہائیوں سے رائج چلاآرہا ہے ، آزادکشمیر کی تاریخ میںمختلف اداوار میں اقتدار کے تخت پر براجمان ہونے والے بڑے سیاستدانوں نے اپنی اولادوں کو اپنا جانشین بنا یا ہے ،سابق صدر و وزیراعظم سردارابراہیم خان نے اپنے فرزند سردار خالد ابراہیم اور سردار عبدالقیوم خان نے سردار عتیق احمد خان جبکہ چودھری نورحسین نے بیرسٹرسلطان محمود چودھری کو اپنا جانشین مقرر کیا جبکہ سردار سکندرحیات بھی ماتم پر آنسو بہاکر بیٹے سردار فاروق سکندر کی کامیابی کے لیے التجائیں کرتے نظرآئے.
چودھری عبدالمجیدکا سیاسی اعتبارسے کوئی بڑا بیک گرائونڈ نہیں تھا، زمانہ طالبعلمی سے ایک عام کارکن کی حیثیت سے سیاست کا آغاز کیا ،مختلف حالات و واقعات کا جواں مردی سے سامنے کرتے ہوئے حریفوں کو زیر کر کے بالآخر ریاست کے سب سے بڑے منصب وزارت عظمیٰ تک بھی پہنچنے،چودھری عبدالمجید اپنی کامیاب سیاسی انگز مکمل کرکے ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں اور حسب روایت اپنے بیٹے کو جانشین بنانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں ،بعض لوگوں کا خیال تھا چودھری عبدالمجید چھوٹے بیٹے بلال مجید کو اپنا جانشین بنانا چاہتے ہیں مگر حالیہ واقعات سے کچھ اور ظاہر ہورہا ہے ،قاسم مجید کا پاکستان پیپلزپارٹی ضلع میرپور کا صدر نامزد ہونا اور چودھری عبدالمجید کے ہمراہ پاکستان کے سابق صدر و پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات بظاہر قاسم مجید کی جانشین نامزگی کا اشارہ ہے ۔
ماضی میں طویل عرصہ تک چودھری عبدالمجید اور کیپٹن (ر) محمد سرفراز خان کے مابین ہی اصل مقابلہ ہوتا رہا ،دونوں رہنمانا صرف حلقہ 2چکسواری اسلام گڑھ کے بڑے نام ہیں بلکہ دونوں سیاسی حریفوں کا آزاد کشمیر کی مرکزی سیاست میں بھی بڑا عمل دخل رہا ہے،دو بڑے لیڈروں کی موجودگی میں کسی تیسرے نام کو تمام تر کوششوں کے باوجود گزشتہ 45سال میں موقع نہیں مل سکا ،تیسرے امیدوار کے لیے ایک معرکہ میں ناکامی کے بعد دوسرے الیکشن میں کھڑا رہنا آسان نہیں رہا تاہم اب حلقہ 2کی سیاسی صورتحال تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے ،سات مرتبہ ممبر اسمبلی منتخب ہونے اورپانچ سال حکومت کرنے کے بعد بھی چودھری عبدالمجید کے لیے الیکشن 2016ء آسان نہیں تھا ،یہی وجہ ہے کہ 2011ء کے الیکشن میں 17500 ووٹ حاصل کر کے 6ہزارسے زائد ووٹ کی لیڈ سے جیتنے والے چودھری عبدالمجید محض959 کی لیڈ ہی حاصل کرسکے ،کم مارجن کی جہاں مدمقابل امیدواران کی تعداد تھی وہی بڑا عمل دخل عام ووٹرز کی تواقعات پوری نہ ہونا تھا ۔
سوال یہ ہے کہ قاسم مجید بہتر جانشین ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟قاسم مجید کی سیاسی میدان میں سٹرونگ انٹری الیکشن 2011ء میں ہوئی ،اقتدار ہمیشہ امتحان ہوتا ہے ،اسی امتحان سے قاسم مجید کو گزرنا پڑا ،جس میں ان سے غلطیاںبھی سرزد ہوئی ،بہر حال قاسم مجید کو سیاسی افق پر نمودار ہونے کا بھرپور موقع ملا ،چودھری عبدالمجید وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو حلقہ 2کے معاملات بغیر کسی مینڈیٹ کے قاسم مجید کے ہاتھ میںتھے مگر شاید اپنی غیر پختگی کے باعث قاسم مجید اس موقع سے عوامی مقبولیت کا فائدہ نہیں اٹھا سکے ،پانچ سال تک خوشامدی لوگوں کے حصار میں رہے اور حقیقی ووٹرز اور سپوٹرز جو خوشامد کے گر سے ناواقف تھے نظر انداز ہوگئے ،عام ووٹرز کے معاملات کو براہ راست دیکھنے کے بجائے اپنے لوکل نمائندوں کے سپرد کرنا نہ صرف سیاسی غلطی تھی بلکہ یہ رویہ ووٹرز اور سپورٹرز کی تذلیل کے مترادف تھا، چودھری عبدالمجید کے ہر دور کے ساتھی قاسم مجید کی اس اپروچ سے دلبرداشتہ تھے اور ناراض بھی ،قاسم مجید کے بارے میں لارے لپو ں کا تاثر عام ہے،ہمارے معاشرے کے عمومی مزاج میں اس عمل سے سخت نفرت کی جاتی ہے ایک کامیاب سیاستدان کے لیے ووٹرز کا اعتماد حاصل ہونا لازم ہے جس کے لیے اپنے عہد پر پورا اترنا ناگزیر ہے ، قاسم مجید کو اپنے عمل سے اس تاثر کو غلط ثابت کرنا پڑے گا ،قاسم مجید کو یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ وہ کسی کرشماتی شخصیت کے مالک نہیں،ضلعی صدر بننے کے بعد اپنی مشہوری کے لیے خود سے سوشل میڈیا اشتہارات بنانے سے عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہوسکے گی لٰہذا اس مقصد کے لیے غیر معمولی اقدامات اور میدان عمل میں محنت کرنے کی ضرورت ہے جیسے چودھری عبدالمجید نے حلقہ 2کے ہر گائوں اور محلہ میں جاکر کی ۔
قاسم مجید کے لیے بڑا چیلنج سابق وزیراعظم صدر تحریک انصاف آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری ہوسکتے ہیں ،جس کما ل حکمت عملی سے چودھری عبدالمجید نے بیرسٹر سلطان محمود چودھری کوآبائی نشست سے محروم کر کے صرف انٹرنیشنل دوروں تک محدود کیا ہے وہ جوابی کاروائی بہرصورت کریں گے ،بیرسٹر سلطان محمود کیمپ کے جو لوگ ایڈجسٹ منٹ کے چکر میں مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تھے ،راجہ فاروق حیدر کی جانب سے نو لفٹ کے بعد مایوس ہوکر آئندہ الیکشن میں وفاداریاں بدلنے پر مجبور ہو سکتے ہیں ،یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ بیرسٹرسلطان محمود اپنے سابق حامی رہنمائو کو عوامی اتحاد کے پلیٹ فارم پر ایک بارپھر متحد کرنے کی کوشش کریں ۔
پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے چیف آرگنائزو امیدوار اسمبلی چودھری ظفر انور کا گزشتہ الیکشن میں چودھری عبدالمجید کو ٹف ٹائم دینے میں کلیدی کردار تھا ،پہلے ہی الیکشن میں 4790ووٹ حاصل کرنا ظفرانور کے لیے بڑ ی کامیابی ہے ،فی الوقت چودھری ظفرانورمنظرعام سے غائب ہیں مگر آمدہ الیکشن میں ان کی شمولیت گزشتہ الیکشن کی پرفارمنس بیس پر یقینی نظرآتی ہے ۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آئندہ الیکشن میں برادری ازم کا کارڈ شاید اس طرح کارگر ثابت نہ ہوسکے جس طرح ماضی اور بالخصوص الیکشن 2016ء میں پیپلزپارٹی کی ڈوبتی کشتی کو بچانے میںہوا تھا کیونکہ ایک ہی برادری کے امیداوار آمنے سامنے آنے سے برادری ازم کا نعرہ غیر موثر ہوجائے گا۔ الیکشن 2016ء میں کل کاسٹ شدہ 32199ووٹ سے چودھری عبدالمجید کو 12384 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ مخالف امیدواروں کو 19815 ووٹ کاسٹ ہوئے ،جس کا مطلب یہ ہواکہ 12384 لوگوں نے چودھری عبدالمجید کو ممبراسمبلی منتخب کیا جبکہ 19815 ووٹر نہیں چاہتے تھے کہ چودھری عبدالمجید عوامی نمائندہ منتخب ہوں۔
اگرچہ آزاد کشمیر میں حکومت مسلم لیگ ن کی ہے مگر حلقہ سے منتخب ممبراسمبلی چودھری عبدالمجید ہی ہیں ، چودھری عبدالمجید اور قاسم مجید کوالیکشن 2016ء کے نتائج کو مدنظر رکھ کر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کامظاہرہ کرنا پڑے گا ، انہیں اپنی ماضی کی غلطیوں کی درستگی کرنا پڑے گی ،حلقہ کے مسائل حل کرنا اصل ذمہ داری منتخب نمائندے کی ہے اور یہ ذمہ داری کسی صورت ن لیگ پر نہیں ڈالی جاسکتی ،خود کو ایم ایل اے کی مراعات تک محدود کر کے حلقہ کی عوام کو لاورث چھوڑنا حلقہ کے عوام سے زیاتی ہے ،جن وعدوں اور دعوئوں کی بنیاد پر حلقہ کی نشست حاصل کی گئی انھیں پورا ہونا چاہیے بصورت دیگر نتائج ان کی تواقعات اور خواہش کے برخلاف آنےسےکوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔

Facebook Comments