سوشل میڈیا پرنفرت انگیز مواد کے خلاف بڑافیصلہ

<span class=" class="avatar avatar-200 wp-user-avatar wp-user-avatar-200 photo avatar-default" />
سائنس و ٹیکنالوجی
20
0

جرمنی میں جرمن پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون بنایا ہے جسکے مطابق سوشل میڈیا کے ادارے جیسا کہ فیسبک، ٹویٹر، اور یوٹیوب کواپنی ویب سائیٹ پر سے مبینہ نفرت انگیز مواد 24 گھنٹوں میں ہٹانا ہو گا . نہ ہٹانے کی صورت میں مطلقہ ادارے کو 50 ملین یورو کا جرمانہ کیا جائے گا .
ان تمام سوشل میڈیا کمپنیز کو اپنے ایک نمائیندے کا نام دینا ہوگا جو کہ نفرت انگزیز مواد کے متعلق شکایات کا موازنہ کرے گا. انتہائی حساس مواد کو 24 گھنٹوں کے اندر اندر ہٹانہ ہو گا جبکہ نچلی سطح کا مواد ہٹانے کے لیے 7 دن کا وقت دیا جا سکتا ہے .
اس ضمن میں فیس بک نے کہا ہے کہ وہ تین ہزار کے قریب افراد کو نفرت انگیز مواد کو جانچنے اور ہٹانے کے لیے نوکری پر رکھیں گے. یاد رہے کہ فیس بک میں پہلے سے ہی 4500 لوگ اسی ضمن میں کام کر رہے ہیں . جنکا کام صرف لوگوں کی پوسٹس کو جانچنا اور ہٹانہ ہے .
دوسری جانب آزادی اظہار کی خمایت کرنے والوں نے جرمنی کے اس قانون کو سرے سے ہی غلط قرار دیا ہے . انکے مطابق 24 گھنٹوں میں مواد کو ہٹانہ آزادی اظہار کے خلاف ہے . اور اس بات کا تعین کرنا کے کون سا مواد جرمن حکام کےلیے ناگزیرہو گا کہنا ناممکن ہے .

Facebook Comments