مجاہدین کرکٹ ٹیمیں.

جموں کشمیر
287
0

حال ہی میں ہندوستان میں ریاست جموں کشمیر میں کھیلے جانے والے کرکٹ میچزاس وقت میڈیا کی زینت بنے جب یہ انکشاف کیا گیا کہ ان ٹیموں کے نام کشمیری مجاہدین کے نام پر رکھے گیے ہیں.نہ صرف انڈین مقبوضہ کشمیر کی پولیس اور فوج میں اس اقدام کے بارے میں تفشیش پائی جاتی ہے بلکہ کٹھپتلی حکومت اور اپوزیشن بھی اس معاملے کو لے کر خوب جوش دکھارہیں ہیں . یہ معاملہ اس وقت اٹھا جب ریاست کشمیر کے جنوب میں ترال کے مقام پر ایک کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کروایا گیا . یہ ٹورنامنٹ مقامی مجاہدین تنظیم کے کمانڈر برہان کے بھائی کی یاد میں کھیلا گیا. جنکو اپنے بھائی سے جنگل میں ملاقات کے الزام میں شہید کر دیا گیا تھا . یہ ٹورنامنٹ دو ماہ تک کھیلا گیا جس میں لگ بگ 16 ٹیموں نے حصہ لیاتھا اور یہ ٹورنامنٹ اپریل میں ختم ہوا تھا . اس سے بڑھ کر یہ کہ اس ٹورنامنٹ میں شامل ہونے والی تین چار ٹیمیں ایسی بھی تھیں جنکے نام حزب المجاہدین کے کمانڈروں کے نام پر رکھے گئے تھے.
یہ بات اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ 70 برس گزرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں مجاہدین کے لیے کس قدر احترام ہے اور یہ کہ تحریک آزادی کشمیر میں کسی قسم کوئی کمی نہیں آئی.
کشمیر میڈیا سروس لکھتا ہے .”’ترال کے ٹورنامنٹ میں کھیلنے والی برہان لائنز، عابد خان قلندرز اور خالد آریئنز، تینوں کشمیری کرکٹ ٹیموں کے نام صرف ان سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے ہی رکھے گئے۔”
اس معاملے پر سب سے زیادہ شوروغوغا انڈین میڈیا گروپ "ون انڈیا ” نے کیا اور معاملے کو بڑا چڑھا کر پیش کیا. نام نہاد حکومت اورآپوزیشن سوشل نیٹورک پر بھی متحرک نظر آئی.
عمر عبداللہ جو کہ نیشنل کانفرنس کے ایگزیکٹیو جیئرمین ہیں اس معاملے کا زمہ دار محبوبہ مفتی کو قرار دیا.

Facebook Comments