اوورسیز کشمیری کب تک برداشت کریں گے

کالم
48
0

ڈڈیال سے براستہ میرپور دینہ جی ٹی روڈاسلام آباد ایئرپورٹ کا ایک طرفہ فاصلہ تقریباً124کلومیٹر بنتاہے جبکہ ڈڈیال سے براستہ دھان گلی کلرسیداں تقریباً90کلومیٹر بنتا ہے ،اسلام گڑھ چکسواری کے مسافر بالعموم جبکہ ڈڈیال کے مسافر بالخصوص اسلام آباد یا راولپنڈی کے لیے دھان گلی کا راستہ استعمال کرتے ہیں ، فاصلہ کم ہونے کے باعث وقت اور فیول دونوں کی بچت ہوتی ہے جبکہ ٹول ٹیکس کی ادائیگی بھی نہیں کرنی پڑتی ۔یہ وہ لالچ ہے جو مسافروں کو جاننے بوجھنے کے باوجود رات کی تاریکی میں اس روڈ پر پیش آنے والی وارداتوں کے خوف اور ڈر سے بے نیاز کردیتا ہے۔
ڈڈیال آزاد کشمیر کے گاؤں سیاکھ کا شہری نوید حسین لاکھوں کشمیریوں کی طرح اپنی فیملی کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہے ،بیرون ملک بہتر روزگار اور روشن مستقبل کے لیے آباد ہر شخص کو اپنے وطن کی مٹی کی یاد ستاتی ہے اور وہ عزیز و اقارب ،دوست احباب اور اپنی مٹی کی خوشبو کو ترسنے لگتاہے ،نوید حسین بھی اپنی آبائی مٹی کی محبت میں گرفتار اپنی بیوی اور 7سالہ بچے کے ساتھ رات 2بجے اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترے ،جہاں ان کے والد اور ٹیکسی ڈرائیور ان کا انتظار کررہے تھے ،نوید حسین اور ان کی فیملی نے بھی کلر سیداں دھان گلی راستے کا انتخاب کیا اور پھر وہ ہو گیا جو اکثر رات کی تاریکی میں اس مین شاہرہ پر ہوتار ہتاہے ،روات سے 8کلومیٹر کلرسیداں کے قریب ساگری کے مقام پرایئرپورٹ سے تعاقب کرتے ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر سب کچھ لوٹ لیا، متاثرہ خاندان سے چھ ہزار پانچ سو پاؤنڈ (6500)نقدی ،زیورات اور قیمتی موبائل فون،پاسپورٹ ،ویزہ کارڈ اور شناختی کارڈ سمیت ہر دستیاب چیز لوٹ کر فرار ہوگئے ،یہ صرف ڈڈیال کے اس متاثرہ خاندان کے مال مسروقہ پر ہی ڈاکہ نہیں یہ لاکھوں اوورسیز کشمیریوں کے ارمانوں،وطن سے محبت اور پیاروں سے چاہت پر ڈاکہ ہے ،یہ اس محبت کو لوٹنے کی کوشش ہے جو سات سمندر پار بیٹھ کر اوورسیز کشمیر ی اپنے علاقے اور خطہ سے کرتے ہیں ،اس واردات میں یہ پیغام دیا گیا کہ آپ اپنے وطن کی مٹی سے کتنی بھی محبت کرتے ہوئے آپ کے خون پسینہ کی کمائی ملک کی معیشت کو کتنا بھی سہارا دے رہی ہوں آپ اور آپ کی فیملی پھر بھی غیر محفوظ ہیں کوئی بھی گن پوائنٹ پر آپ کو لوٹ سکتا ہے اور آپ کے برطانوی نژاد کشمیری بچوں اور فیملی کو اپنی گن اور دہشت زدہ رویہ سے ہمیشہ کے لیے اپنے خطہ سے بدزن کرسکتا ہے ،دھان گلی کلرسیداں روڈ پر یہ پہلی واردات نہیں ،اس سے قبل بھی درجنوں وارداتیں رونما ہوچکی ہیں مگرشاید ہی کوئی ملزم پکڑا گیا ہو ،اوورسیز اس لوٹ مارسے تنگ آچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس واردات کے بعد نئی صورتحال سامنے آئی ہے ،اس وارات کی جہاں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر مزاحمت کی گئی وہی کشمیری نژاد واحد کاشر نامی برطانوی شہری کی میرپور میں ایئرپورٹ کا مطالبہ کرنے والی پوسٹ کواتنی پزیرائی ملی کہ فوراًسوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔
اووسیز صرف دھان گلی کلرسیداں مین شاہرہ پرہی ڈاکوؤں کے ہاتھوں ہی نہیں لٹ رہے بلکہ ایئرپورٹ عملہ بھی اس عمل میں پورا کردار ادا کرتا ہے ،چند دن قبل ایک ٹی وی رپورٹ میں 73سالہ بزرگ چودھری صابر حسین ائیرپورٹ عملہ کی شکایت کرتے نظر آئے ،چودھری صابر حسین کے مطابق ائیرپورٹ عملے نے ان کی بیوی کے پرس سے 4ہزار پاؤنڈز نقداور زیورات وغیرہ چورالیے ،ان کا 22سے 23ہزار پاؤنڈز جس کی پاکستانی کرنسی میں 30سے 32لاکھ روپے بنتی ہے کا نقصان ہوا ،اس رقم کی واپسی کے لیے وہ 2سال سے دھکے کھا رہے ہیں مگر کہیں کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے ،اسلام آباد پولیس بھی آزاد کشمیر بالخصوص میرپور کی گاڑیوں کو بطور خاص پوچھ گچھ کرتی ہے ،بہر حال یہ سلسلہ گزشتہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت سے بہتر ہوا ہے ،اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار سے شناسائی ہوئی تو دریافت کیا میرپور کی گاڑیوں کی دور سے ہی شناخت کیسے کی جاتی ہے ،جواب سن کر حیرت کے ساتھ پریشانی ہوئی ،پولیس اہلکار نے بتایا اولاًمیرپورکے اکثر مسافر ڈیزل گاڑی استعمال کرتے ہیں ،دوم میرپور کے شہریوں کی ہیئرکٹ مخصوص ہوتی ہے اور سو م میر پور کے شہریوں کی گردن پتلی ہوتی ہے جس کے باعث انہیں دور سے ہی پہچان لیا جاتا ہے چونکہ آزاد کشمیر پہاڑی علاقہ ہے اس لیے زیادہ تر ڈیزل گاڑیاں ہی استعمال کی جاتی ہیں،سوال یہ ہے پہاڑی علاقوں میں پٹرول یا سی ان جی گاڑیوں کا استعمال کیسے کیا جائے ،آزاد کشمیر اورمیرپور کی اپنی تہذیب و ثقافت ہے ،اب سلطان راہی اور مصطفی قریشی جیسا ہیئر سٹائل کیسے اپنا یا جائے ،سب سے بڑی پریشانی تو یہ ہے کہ گردنیں کیسے موٹی کی جائے ؟
میرپور میں ائیرپورٹ کا مطالبہ اوورسیز کی جانب سے پہلی مرتبہ اتنی شدت سے کیا جارہا ہے ،یہ ایک جائز مطالبہ ہے جو اوورسیز کے تحفظ کی ضمانت ہے ،آزاد کشمیر کے لاکھوں لوگ بیرون ملک بالخصوص برطانیہ میں آباد ہیں ،جو پاکستان کی اکنامی کے لیے اپنے خون پسینہ کی کمائی شامل کرتے ہیں ،پاکستان اور آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے سیاستدان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بھی اکثر برطانیہ ہی کارخ کرتے ہیں اور تو اور سیکڑوں لوگوں کے ساتھ ملین مارچ اور گو نواز گو مہم چلانے کے لیے بھی برطانیہ کا ہی انتخاب کیا جاتاہے ،بیوروکریٹس طبقہ بھی سیرسپاٹے کے لیے برطانیہ کو ترجیح دیتا ہے،سوال یہ ہے آخر برطانیہ کا ہی کیوں انتخاب کیا جاتا ہے ؟کیونکہ کشمیر ی نژاد برطانوی شہری خندہ پیشانی سے ان سب کو ویلکم کرتے ہیں ،ان کے اعزاز میں پروگرام منعقد اور جلسوں کا انعقاد کرتے ہیں جبکہ پرتکلف کھانوں کا اہتمام بھی بطور خاص کیا جاتا ہے،برطانوی پارلیمنٹ ،ممبران پارلیمنٹ اور میڈیا تک رسائی بھی انہی کی بدولت ممکن ہوتی ہے ، کشمیری نژاد برطانوی شہری ایڈوانس ملک میں رہنے کے باوجودپاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کے لیے بے حد جنونی نظر آتے ہیں ،ان سیاسی لیڈروں کی خاطر تواضح میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے جوشاید پاکستان اور آزاد کشمیر میں برطانیہ کے میزبانوں کو ملنا بھی گوارہ نہ کرتے ہوں،اس بے لوث محبت اور تکلف کے باوجود اوورسیز کی سہولیات کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ،اوورسیز کی محبت کے صلہ میں مین شاہرات پر گن پوائنٹ پر لوٹ لیا جاتا ہے نہ ملزم پکڑے جاتے ہیں اور نہ کوئی ازالہ کیا جاتا ہے ،یہ کہا کا انصاف ہے ؟ پاکستان اور آزاد کشمیر کے ارباب اختیار کو اب یہ ادراک ہوجانا چاہیے کہ یہ صورتحال زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گی،چند روز قبل برطانیہ سے ایک دوست نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کے آئے روز دوروں کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ان سیاستدانوں کے دوروں سے ہم تنگ آچکے ہیں،ہمارے لیڈران کرام کو صدر ریاست کا حالیہ دور ہ اشارہ کے طور پر لینا چاہیے ، وزیر اعظم آزاد کشمیر متاثرہ فیملی پر گزرنے والے کرب اور تکلیف کا احساس کرتے ہوئے جس طرح کوہالہ پل پر پولیس اہکاروں کو سیاحوں سے نکاح نامہ چک نہ کرنے کی ہدایت کرتے نظر آتے ہیں اسی طرح دھان گلی پل پر بیٹھ کر انتظامیہ کو ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے کی ہدایت دیں اور متاثرہ فیملی کا لوٹا ہوا مال مسروقہ بازیاب کروائے ،وگرنہ اوورسیز کشمیری کب تک برداشت کریں گے ۔

Facebook Comments