پاکستانی صوبائی وزیر اطلاعات کی بیان بازی

جموں کشمیر نیوز پر شائع ہونے والی خبر پاکستان کے صوبائی وزیر کے بیان کے بعد اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بیرون ملک کشمیری بلخصوص میرپوریوں کی جانب سے پاکستان کے ڈیم فنڈز میں کوئی خاطرخوا فنڈز نہیں دیے گئے . یاد رہیں کے انگلینڈ میں مقیم میرپوری کی انگلینڈ میں روزگار کی تلاش میں آنے کی بڑی وجہ 1960 میں بننے والا ایک ڈیم ہی تھا. جسکو خال ہی میں مزید اونچا بھی کیا گیا . انسانی تاریخ میں شائید ہی اتنے زیادہ متاثرین ہوئے ہوں. جنکی وجہ ایک ڈیم جو کہ ایک دوسرے ملک کی خوشخالی کے لیے بنایا گیا ہو. ایک ڈیکٹیٹر نے پہلے کی بنیاد 1960 میں رکھی اور دوسرے نے اسی کی اونچائی کا افتتاخ2004 میں کیا، دونوں کو کالا باغ اور دوسرے پاکستانی خدود میں ڈیم بنانے کا خیال بھی نہ آیا. آج بھی کوٹلی اور نیلم میں نئے پروجیکٹ پر کام پورے پاکستانی 🙂 جوش جزبے سے جاری ہے . مقامی آبادی کا بہت بڑا خصہ بیرون ممالک میں ہجرت پر مجبور ہے . کیونکہ انہی کی زمینوں اور آباو اجداد کی قبروں پر بننے والے یہ ڈیمز انہی کے لیے کوئی فائیدہ اور سہولت نہیں دے سکے . آج بھی میرپوری 1960 کے متاثرین پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہندوں اچھوتوں کی طرخ الگ سے گاؤں اور الگ سی آباد کاری میں رہتے ہیں ، آج 58 سال کے بعد بھی مقامی پاکستانی آبادی نے انہیں تسلیم نہیں کیا . چنونکہ

GOOGLE

Article Tags

Facebook Comments