کشمیر تنازہ اور اسکا حل

بھارت کو انگریزوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد چھوڑا جسکا وہ کوئی بھی ارادہ نہ رکھتے تھے . اتنے بڑے ختے کو عجلت میں چھوڑے جانے کی وجہ ایک معمع ہے اور ہر کسی کے پاس اپنی ہی ایک سازشی کہانی ہے . خیر کیونکہ بھارت ، انڈیا ، ہندوستان ، بر صغییر ، ایک بڑا خطہ تھا . جہاں پر انگریزوں سے پہلے علاقے مختلف ، نوابوں ، مہراجوں کے زیرانتظام تھے . افغان سے آنے والےمغل درمیان کو فتح کر کے آس پاس کے علاقوں سے جنگیں کر کے یا پھر رشتے داریاں کر کے قابض تھے اور انکا عیاش ترض حکمرانی ہی انکے زوال کی سبب تھا.
2 لاکھ فرنگی فوج پورے ہندوستان پر سو سالوں تک حکومت کرتی رہی. دنیا میں تاریخ انسانی میں اسکی مثال نہیں ملے گی. صرف دولاکھ فوج کا ، زبان سے نا آشنا ہونا، علاقوں سے نہ واقف ہونا ،اور مختلف مذہبی نظام ہونے کے باوجود سالوں خکمرانی کرنا سمجھ سے بالاتر ہے .
خیر انگریز نکلے عجلت میں پیچھے بنا ہندوستان اور پاکستان اور جب آئی با ت کشمیر کی تو اس کو کسی ایک کے ساتھ لینے کے بجائے سب نوچ کھانے کے لیے دوڑ پڑے ، گلگت بلتستان ، اکسائیچن، پاکستانی کشمیر، ہندوستانی کشمیر. سب نے تھوڑا تھوڑا تبرک سمجھ کے رکھ لیا. مہراجا ہرگز ہندوستان نا باگتا اگر پاکستان والے فاٹا کے پختونوں کی مدد سے کشمیر پر چڑ نہ دوڑتے .چونکہ اس وقت ہندوستان اور پاکستان میں علاقوں کی تقسیم مذہبی اکژیت کی بنیاد پر ہورہی تھی . مہراجہ کی اپنی خواہش کا بھی چلنا کا چانس 100 میں سے 40 فیصد تھا. وہ بھی کیا مہراجا تھا جو اپنے لوگو ں کو مشکل وقت میں یوں چھوڑ کر چلتا بنا. خیر ان ماضی کے سوالوں کو کریدنے کا کوئی فائدہ نہیں اب چلتے اور سوچتے ہیں مستقبل کے بارے میں.
پاکستان میں پہلی بار وہ شخص وزارت عظمی پر بیٹھنے جا رہا ہے جو کہ بنا سوچے سمجھے فیصلے کرنے کی وجہ سے مشہور ہے .اس کا مسئلہ کشمیر کے خل کے لیے بھارت کو مزاکرات کی میز پر بیٹھنے کا کہنا خوش آئیند مانا جا رہا ہے . آج 08-08-2018 تک تو یہی سمجھا جا رہا ہے . لیکن جو لوگ پاکستان سے واقف ہیں انکو معلوم ہے کہ پاکستان میں فوج کی مرضی کے بناپتا بھی ہلانا مشکل ہے. بیشتر فوجی سپائی غریب غربا ہیں . لیکن انکے سربراہ بڑے بڑے جاگیرداروں اور نوابوں کے ہی باقیات ہیں . مزید اس ضمن میں کچھ کہنا مناسب نہیں ، پڑنے والا تخقیق کر لے.
ہندوستان ، پاکستان اور چین اس علاقے کو چھوڑنے والے نہیں اور آج کی تاریخ میں اسکا حل مندرجہ زیل نکات ہی میں سمجھ میں آتے ہیں .
1. ہندوستان،چین اور پاکستان پورے کشمیر سے فوجیں نکا ل کر اپنی خدود میں لے جائیں.معاہدےکے تخت کوئی بھی ملک دوبارہ علاقوں فوجی مداخلت نہیں کریں گے. خلاف ورزی کی صورت عالمی عدالت انصاف اس ملک کو قرار واقع سزا دے گی.
2. کشمیری کسی قسم کی کوئی فوج نہیں رکھیں گے ہاں البتہ امن اومان کے لیے پولیس کی مدد کے لیے فوج نما ادارہ ضرور ہوگا.
3.کشمیر کے اندر بنائے جانے والے ڈیمز کے پانی کی منصفانہ تقسیم ہو گی جسکے لیے آبی ذخائیر سے فائدہ اٹھانے والےملک مالی تعاون کریں گے .
4.کشمیر کے اندر ہر قسم کے قدرتی ذخائیر کا حق کشمیر کا ہو گا.
5. دونوں ممالک سے کچھ لے دے کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں مدد لی جا سکے گی.
6. کشمیر میں یا تو اپنی کرنسی رائیج ہو گی یا پھر پورا ختہ پاکستان اور ہندوستان کی کرنسی استعمال کرے گا جسکی کشمیر کے اندر ایک جیسی قدر ہو گی .
7.کشمیر کا اندر صدارتی ترز کا نظام ہو گا .
8.کشمیری کشمیر سے باہر اور پاکستانی ، ہندوستانی لوگوں کی آمد ویزا کی بنیاد پر ہو گی .
9. دونوں ہمسائیہ ملک کشمیر کی خدود تک اپنے باڈرز کو مضبوط رکھیں گے .
10.
مزید نکات شامل کیے جا سکتے ہیں . اگر یہ ہل کشمیریوں ،ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی نہیں پسند تو پھر اسی طرح چلتے رہیں . غریب مرتے رہیں گے ، امرا چائے کی چسکیاں لے کر لڑوں مرو کے فرمان جاری کرتے رہیں گے اور دنیا تماشا دیکھتی رہے گی.
یاد رکھوں برصغیر کے 99% لوگ کسی ایک ہی شخص کی اولاد تھے ،1400 سال پہلے ایک اور درہم ،مزہب آیا پھر بھی بھائی چارہ قائم رہا لیکن انگریز آیا اور جاتے وقت مزہبی بنیاد پر تقسیم کر گیا اور عمر بھر کے لیے کشمیر کا معاملہ چھوڑ کر اپنا مُہتاج بنا کر چلتا بنا. آج تک جلائے جانے والا اور دفنائے جانے والا انہی کےمرہوں منت ہے. بھائی بھائی کو کاٹ رہا ہے اور یہ سلسلہ چلاتا رہے گا.

Facebook Comments