میں کون ہوں ……؟

اداریے
32
0

میں کون ہوں ……؟
تحریر:محمد کاشف اکبر
یہ بات آج سے 30،35سال پرانی ہے جب ارم 15,14سال کی تھی اور اسے اس کے آبائی وطن بنگلادیش سے سمگل یا اغواہ کر کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے پاکستان اور پھر کشمیر لایا گیا یہ تو ارم کو وقت کے تھپیڑوں نے بھلا دیا ہے کہ وہ بنگلادیش سے کشمیر کیسے پہنچی یا شاید اس سوال کا جواب وہ اپنی زبان سے دینے کے بجائے بغیر زبان ہلائے اپنے دکھ بھرے سفر اور اپنے اپنوں سے جدائی کا غم سنانا چاہتی ہے شاید اس کے پاس ایسے الفاظ ہی نہیں جس سے وہ اپنے کربناک سفر اور درد کو بیان کر سکے البتہ اس کے چہرے پر اس درد و کرب کے آثار عیاں نظر آتے ہیں۔وقت بے رحم کب دیکھتا ہے کہ وہ کسی کو غم دے کر جا رہا ہے یا خوشی بس گزر جاتا ہے ارم کا بھی وقت گزرتا رہا اور وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ بِکتی ہوئی کشمیرکے ایک گاؤں میں پہنچی جہاں پر ایک بزرگ نے ارم کے سرپر مشفق باپ کی طرح ہاتھ رکھا اور اپنے بھتیجے کیلئے خریدکر اس سے نکاح کرادیا۔لاوارث کو وارث ملا مشفق باپ کی شفقت والا ہاتھ جب ارم کے سر پر رکھا گیا تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمانے لگی وہ خوشی مناتی بھی کیوں نہ بے سہارہ کو سہارا چاہیے بے گھر کو گھر اور بے وارث کو وارث چاہیے ہوتا ہے ارم کو بھی اتنی لمبی مسافت طے کرنے کے بعد آخر سب کچھ مل گیا تھا زندگی ہنسی خوشی گزرنے لگی گھر میں اگر کبھی چھوٹی موٹی نوک جھونک ہوتی تو ارم اپنے منہ بولے باپ کے پاس دوڑی چلی آتی اور اس طرح معاملہ خوش اصلوبی سے حل ہو جاتا،وقت گزرتا رہا ارم کے بطن سے 2بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی اور وہ ان کی تعلیم وتربیت میں جت گئی بچوں کو خود سکول لے کر جانا اور واپس لانا اس کی زندگی کامعمول بن چکا تھا جب ارم کا بڑابیٹا24,22سال کا ہواتھا کہ ارم کی زندگی میں پھر بھوبچال آیا گھر کی معمولی رنجش بڑھتی گئی اور آخر طلاق کا سبب بنی اور وہ ایک بار پھر گھر سے بے گھر ہوگئی شاید گھر ٹوٹنے میں ارم کی اپنی بھی غلطی شامل تھی،ارم بے سہارا ہو چکی تھی اُس مشفق باپ کاشفقت بھراہاتھ بھی سر سے اٹھ چکا تھا اگر وہ حیات ہوتے تو شاید اپنی بیٹی کا گھر بچالیتے اس کا سہارا بنتے،سب سے بڑھے دکھ اور پریشانی کی بات یہ تھی کہ ارم کو پاکستانی شہریت بھی نہیں مل سکی تھی اگر وہ گھر کی چاردیواری میں رہتی تو اسے شہریت کی ضرورت نہ تھی مگر قسمت نے اسے ایک بار پھر چوراہے پر کھڑا کر دیا تھا۔ اس کی غیرقانونی حیثیت نے اسے مزید مشکلات میں ڈال دیا تھا کیونکہ موجودہ دور میں سب سے بڑی ضرورت شناخت کی ہوتی ہے اورجس کا ثبوت صرف قومی شناختی کارڈ ہی ہے مگر اس نے تو اپنی زندگی کے 40,35سال پاکستان میں گزار دیے تھے مگر غیرقانونی حیثیت سے اوپر سے اس کا بنگالی لہجہ اور علمی نابلدی نے اس کی مشکلات میں مزید دوچند اضافہ کردیا تھا اور وہ سہارے تلاش کرتی کبھی ایک در پر جاتی تو کبھی دوسرے در پر مگر اسے مستقل سہارا دینے کے بجائے بہروپیے استعمال کرتے یعنی اس کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے اور دھکے دے کر گھر سے نکال دیتے۔ آج بھی وہ ایک ایسے مرد کے نکاح میں ہے جو اس پر ظلم کے پہاڑتوڑ رہا ہے اور وہ بے بس اپنی فریاد کہیں بھی لے کر نہیں جاسکتی ایک بار پہلے وہ ایسی غلطی کر چکی ہے وہ اپنی فریاد لے کر پولیس کے پاس گئی تھی اور پھراس سے وہی سوالات دھرائے گئے جو ایک جاسوس کے لئے ہوتے ہیں مگر وہاں اس کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں تھابلکہ اسے ہی مجرم بنا کر پابندسلاسل کردیا گیا آخر کار اس کے سابقہ عزیزوں میں سے ایک اعلیٰ عہدادار کی سفارش پر چھوڑا گیا اس کے بعد تو وہ ظلم سہتی مگر اُف تک نہ کرتی کہ کہیں پھر کسی ادارے یا ایجنسی کے ہاتھ چڑھ جائے۔ایک دن اس کے کسی اپنے نے اسے میڈیا کا سہارا لینے کامشورہ دیا تو وہ راقم کے پاس چلی آئی گو کہ راقم اسے پہلے سے جانتا تھا مگر اس کی غیرقانونی حیثیت اورطلاق کے بعد اس پر ہونے والے مظالم کا علم نہ تھا فریادی فریاد لے کر پہنچی کہ کہ میرا خاوندمیرے ساتھ ٹھیک نہیں مجھ پرتشدد کرتا ہے اس کے خلاف خبر لگوانی ہے،راقم اپنے صحافتی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے تفصیل معلوم کرنے کے لئے سوالات پوچھنے لگا تو وہ سوالوں کے جوابات دینے سے قاصر نظر آئی جب بات پولیس کی آئی تو وہ ڈر گئی اور خبر چلوانے سے بھی انکار کر دیا،خوف اس کے چہرے پر عیاں نظر آرہا تھا ارم کی ہی ترجمانی کرتے ہوئے شاعرہ کہتی ہیں کہ ؛
ہوں معصوم وبہت مظلوم و دکھیاری میں
ڈرتی بہت ہوں اس ظالم سماج سے میں
ؓؓاک بات ہے یہی کہ رہتی ہوں خاموش میں
راقم نے اسے تسلی دی اور کہا ٹھیک ہے کہ ہم خبر نہیں لگائیں گے اور ناہی پولیس کے پاس جائیں گے مگر آپ مجھے اپنی آپ بیتی سناؤ وہ بولنے لگی اور میں غم کے سمندر میں دھیرے دھیرے اترنے لگا ارم کی آپ بیتی ختم ہو چکی تھی مگر میں خیالوں میں غرق اس آپ بیتی کو کسی فلمی منظرنامے کی طرح دیکھ رہا تھا اس کی مجھے پکارنے کی آواز نے جھنجوڑااور میں عالم خیال سے پلٹا اور اس سے بس اتنا ہی کہہ سکا کہ آپ پریشان نہ ہوں اِن شاء اللہ بہتر ہو گا اور وہ چلی گئی؛
ایک عجب سی کشمکش میں مجھے ڈال چکی تھی وہ
اپنا سارا دکھ مجھے سونپ کر جا چکی تھی وہ
بہت سوچنے کے بعد راقم نے قلم تھاما اورخون جگر نچوڑ کر اس کی مدد کرنے کی نیت سے اس کی آپ بیتی کو اپنے الفاظ میں ڈھالنے لگااس نیت سے کہ شاید ہمارے حکمرانوں،انتظامیہ اور قانون نافذکرنے والے اداروں کو ارم کا خیال آجائے بلکہ یہ تو ایک ارم کی کہانی ہے پتہ نہیں اس ارم جیسی کتنی ہوں گی جو وطن عزیز میں خاموشی سے ظلم کے پہاڑ برداشت کر رہی ہوں گی صرف اس ڈر سے کہ جب کوئی پوچھے گا کہ تم کون ہو تو میں کیا جواب دوں گی کہ میں کون ہوں ……!

Facebook Comments