ویران کشمیر خوشخال اور روشن پاکستان.

اداریے
54
0

گزشتہ کچھ ماہ سے سوشل میٹیا پر بہت ساری اشاعتین نظروں سے گزرین جسمیں نیلم پر بننے والیے ایک نئے پراجیکٹ پر مظفرآبادی باسیوں کی چیخیں عیاں تھی، اس نیئے پراجیکٹ‌جس سے 240 میگاواٹ کے لگ بھگ بجلی پیدا کی جائے گی ، جوکہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر کی آبادی خصوصا اس پراجیکٹ سے ملخقہ علاقوں کے ضرورت سے شائد زیادہ کے اور اسکی ترسیل یقینا پاکستان کو ہی ہونا مقصود ہے ،
اسی ضمن میں چائینی کمپنی جو کہ اس پراجیکٹ پر کام کر رہی ہے کی ایک انفوگرافک وڈیو بھی دیکھنے کو ملی، جسمیں انگریزی کی مدد سے پراجیکٹ کی تفصیلات بتائی جا رہی تھیں ، اس وڈیو میں جا بجا چائینیز لہجے میں ڈبنگ جو کہ مخصوص نمبروں پر تھی اس سارے پراجیکٹ کے اصل نتائج اور اسکے اثرات کو مشکوک بناتی تھی.
ماضی اور خال میں کوٹلی میں جاری اسی طرز کے پراجیکٹ اور منگلا اپریزنگ پر پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے نام نہاد دارلخکومت کی جانب سے کوئی بیان نہ کبھی سنا اور نہ دیکھا.
مجھے اپنے کانوں سے سننے کا اتفاق ہوا کہ تم میرپور والوں کو ڈیم بننےپر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ،یہ نہ بنتا تو تم کو پانی نہ ملتا اور نہ تم بیرون ملک جاتے . اس وقت مین کہ کچھ نہ کہ سکتا ، لیکن میرپور کے لیے کشمیر کے دوسرے اضلاع کے لوگو ں کا تعصب کا عیاں تھا، اس وقت اپنے پڑنانا ، پڑنانی اور پڑدادا اور دادی کی قبریں بہت یاد آتیں، جنکو اور جن پر صرف ایک لوہے کے سریے کے نشان کی وجہ سے ہر سال پانی اترنے پر دیکھا اور فاتخہ خوانی کی جاتی ،قصورصرف پرانے شہر میرپور کا باسی ہونا تھا.

گزشتہ ایک ہفتے سے مظفرآباد والوں کا واویلا سننے کے بعد یہی لفظ لکھنے اور بولنے کا جی چاہتا ہے . اب پتا چلا کتنے 20 کا سو ہوتا ہے .

Facebook Comments