پاکستان میں سیاسی تبدیلی

پاکستان کے خالیہ عام انتحابات میں کامیاب ہونی والی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ کی جانب سے کشمیر تنازہ کو حل کرنے کے لیے بھارت کو مزاکرات کی میز پر آنے کی دعوت کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے . بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں خریت رہنماؤں اور محبوبہ مفتی کی جانب سے بھی اس بیان کے بعد بھارت سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان سے کشمیر کے مسئلے پر بات کرے .
پاکستان میں اس بڑی سیاسی تبدیلی کی وجہ عسکری اداروں کی انتخابات میں مداخلت کو قرار دیا جا رہا ہے . آپ کو مختلف سیاسی اور صخافتی شعبع سے تعلق رکھنے والے لوگ اس بارےمیں بیانات دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں .
گزشتہ پاکستانی حکومتوں کے ادوار میں مسئلہ کشمیر پر کوئی خاص پیش رفت نہیں دیکھی گئی ، نئی پاکستانی خکومت اس معامعلے میں کتنی سنجیدہ ہے اسکے بارے میں آنے والا وقت ہی صحیع بتا پائے گا.
موجودہ خالات کے نتاظر میں مسئلہ کشمیر کا حل جنرل مشرف کے ڈاکٹرین کے علاوہ کچھ نہیں . جسمیں سیدھی زبان میں یہی کہا گیا کے بھارتی اور پاکستانی زیرانتظام علاقے اسی طرح رہیں گے اور منرل اور دوسرے ذخائیر سے دونوں مستفید ہوں گے . اس کے بارے میں کشمیریوں کی کیا رائے ہے جاننے کی کوئی ضرورت نہیں.
مشرف ڈاکٹرین ہی موجودہ خالات کے تناظر میں واخد ھل نظر آتا ہے . کشمیر کے اندر ہی سے لوگ دونوں ملکوں سے علیحدگی بھی چاہتے ہیں اور کشمیری ہی دونوں میں سے کسی ایک سے الحاق چاہتے ہیں. پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے لوگوں کو بھارت سے نفرت اور خودمحتاری سے دستبرداری کا کہا جاتا ہے اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پاکستان سے نفرت اور خودمختاری کے دعویٰ سے روکا جاتاہے.
50 سالوں میں کشمیری خود بھی نہیں جانتے کہ وہ چاہتے کیا ہیں. دونوں کے زیرانتظام کشمیری لاکھوں جانون کو گوا کر اورعصمتیں لٹوا کر بھی فیصلہ کرنہیں پائے . اللہ ہی خافظ ایسے لوگوں کا .

Facebook Comments