خواجہ ایوب کو کیوں نکالا

کالم
67
1
sample-ad

صوابدیدی عہدوں پر تعنیاتی حکومتی اختیار ہےمیونسپل کمیٹی چکسواری کے ایڈمنسٹریٹر تبدیلی پر لکھنے کی ضرورت نہ تھی مگر اب سابق ایڈمنسٹریٹر خواجہ ایوب کی پریس کانفرنس اور اخباری بیان کے بعد لکھنے کا جواز پیدا ہوا ہے خواجہ ایوب کے مطابق انہیں عہدہ سے ہٹائے جانے بارے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا انہیں تب معلوم ہوا جب نو تعینات ایڈمنسٹریٹر راجہ گلفراز پیپلزپارٹی کے سپوٹرز کے ہمراہ چارج لینے آفس پہنچے ۔ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن برسراقتدار آنے کے بعد صوابدیدی عہدوں پر تعیناتی کے لیے مسلم لیگ ن کے سیکڑوں سیاسی رہنما و کارکنان خواہش مند تھے تاہم وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے منفرد فیصلہ نے سب کے خواب چکنا چور کر دیئے راجہ فاروق حیدر نے غیر متوقع طور پر جماعتی صدور بلترتیب ٹائون کمیٹی ،میونسپل کمیٹی اورتحصیل و ضلع کونسل کے ایڈمنسٹریٹر تعینات کیے اس فیصلہ کو مسلم لیگ ن کے کارکنان نے خوش دلی یا بد دلی سے قبول کیا ان میں وہ افراد بھی شامل تھے جو شاید خود ایڈجسٹمنٹ کے آرزومند تھے مگر اس فیصلہ کو کھلے دل سے اس لیے تسلیم کیا کہ اس سے جماعتی عہدوں کی اہمیت بڑھے گی اور جماعت مزید مضبوط ہوں گی ۔ اگروزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر جماعتی صدور کو ایڈمنسٹریٹرز تعیناتی کا فیصلہ نہ کرتے تو شاید خواجہ ایوب سمیت متعدد موجودہ ایڈمنسٹریٹر امیدواران تھے اور نہ اس ایڈجسمنٹ کا وہم و گمان رکھتے تھے خواجہ ایوب کی تعیناتی کو مسلم لیگ ن حلقہ 2 چکسواری اسلام گڑھ کی قیادت و کارکان نے خوش دلی سے قبول کیا تھا منصب کا چارج لیتے وقت چکسواری میں پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا ڈھول باجے بجائے گئیں تھے ناصرف خواجہ ایوب کی اپنی برادری و قبیلہ کے افراد نے بلکہ سب ہی نے خواجہ ایوب کو خوش آمدید کہا اور مبارکباد دی تھی ۔ اب سوال یہ ہے کہ خواجہ ایوب کو کیوں نکالا گیا ؟اگر توکارگردگی کی بنیاد پر ایڈمنسٹیرٹرکو تبدیل کیا گیا تو یہ بتایا جائے کہ وہ کون سے اہداف تھے جوباقی ایڈمنسٹریٹرز نے تو پورے کر لیے مگر خواجہ ایوب ناکام رہے ،اگر قابلیت کی بنیاد پر نکالا گیا تو یہ بتایا جائے کہ قابلیت کا معیار کیا مقرر کیا گیا تھا نیز یہ بھی بتایا جائے کہ ایڈمنسٹریٹر اسلام گڑھ عامر رزاق اور خواجہ ایوب کی قابلیت میں کیا فرق ہے ۔ خواجہ ایوب نے الزام عائد کیا ہے کہ راجہ گلفراز کی تعیناتی آزاد کشمیر گورنمنٹ کے بیوروکیٹ راجہ امجد پرویز کی ملی بگھت سے عمل میں لائی گئی اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ خواجہ ایوب راجہ کریسی کا شکار ہوئے اور انہیں برادری ازم کی بھینٹ چڑھایا گیا اگر ایسا ہے تو میرے نزدیک یہ بڑا جرم ہے یہ بھی ممکن ہے چونکہ جنرل الیکشن کو محض ایک سال باقی ہے اس لیے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے آمدہ الیکشن کو مدنظر رکھ کر ساتھیوں کو خوش کرنے کے لیے صوابدیدی عہدوں پر ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہوں ۔ بہرحال جس طریقہ سے خواجہ ایوب کو فارغ کیا گیا قطعاً مناسب نہیں ،خواجہ ایوب شریف النفس انسان ہیں اگر انہیں از خود سبکدوشی کے لیے کہا جاتا تو یقیناً انکار نہ کرتے شاید یہاں طاقت دیکھانا مقصود تھا میرے خیال میں جس طرح خواجہ ایوب کو نکالا گیا یا برداری ازم کی بھینٹ چڑھایا گیا یہ ایک سیاسی کارکن کی توہین ہے اس پر میڈیا میں نہ سہی مگر جماعتی سطح پر مسلم لیگ ن حلقہ 2 کی قیادت و کارکنان کو بھرپور احتجاج کرنا چاہیے یہی سیاسی شعور کی علامت ہے ۔

sample-ad

Facebook Comments

Comments are closed.