میونسپلٹی کا گند

اداریے
237
0

میونسپلٹی کا گند
تحریر:۔ وقار احمد چودھری
آزاد کشمیر کو جنت کہا جاتا ہے اور واقع ہی آزادکشمیر میں قدرتی حسن دیکھنے والے کو جنت کا نظارہ دیتا ہے مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور ماحولیاتی آلودگی کے سبب یہ جنت بھی ماند پڑھ چکی ہے۔اس جنت کی خوبصورتی کو واپس لانے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے قائم کردہ بلدیاتی ادارہ جات اپنے فرائض منصبی سر انجام دیں اور جنتِ کشمیر کو صاف ستھرا رکھیں۔دنیا بھر کے ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حکومت نے میونسپلٹی کا اداہ قائم کیا ہے۔یہ ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جسکی اولین ترجیع شہر کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ہوتی ہے۔میونسپلٹی کے زمرے میں شہر کی سڑکوں اور چوراہوں کی صفائی،مویشی منڈیوں کا قیام آوارہ جانوروں کیلئے پھاٹک کا قیام،تعمراتی کام،سٹرکوں پر اشتہاری بورڈز،کمرشل اداروں اور موبائل ٹاورز سے ٹیکس وصولی جیسے کام ہوتے ہیں۔میونسپل کمیٹی اپنی حدود سے مختلف ذرائع سے ریونیو اکھٹا کرنے کی مجاز ادارہ ہے۔دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں میونسپلٹی جیسے بلدیاتی اداراجات قائم ہوتے ہیں جو اپنی حدود کی خوبصورتی اور صفائی کا خیال رکھتے ہیں۔
اسلام گڑھ میونسپل کمیٹی عرصہ 20 سال سے قائم ہے جس میں ایڈمنسٹریٹر،چیف آفیسر،مجسٹریٹ،ٹیکس آفیسر،سیکریٹری،کلرکس اور خاکروبوں کی ایک فوج سمیت تقریباً نصف سینچری ملازمین تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔جن کا کام صرف صبح اسلام گڑھ چوک میں جھاڑوں پھیرنا ہے۔عرصہ دراز سے لگے کوڑے دان بھی شہر سے غائب کر دیئے گئے اور اب دوکاندار حضرات اپنا فرض نبھانے کیلئے کچرا عین چوک کے عقب میں پھینک کر بری الزماں ہو جاتے ہیں اور بارشوں کی وجہ سے چوک کے اردگرد بدبو بڑھنے کے بعد اگر بلدیہ ملازمین کا موڈ بنے تو کچرا اٹھا کر موڑا راٹھیاں (قریبی آبادی) میں رہائشی مکانوں کے پاس پھیک کر آگ لگا دیتے ہیں (کوڑا تلف کرنے کا انتہائی جارحانہ طریقہ) جس سے ماحولیاتی آلودگی کو فروغ ملتا اور مکمل کوڑے کو آگ نہ لگنے کے باعث جراثیم پیدا ہو کر مہلک بیماریاں پھیلاتے ہیں۔اسلام گڑھ بازار میں کسی دور میں نصب ہونے والی سٹریٹ لائٹس خراب ہو کر ٹوٹ چکی ہیں،کوڑے دان غائب ہیں،نالیوں سے تعفن و بدبو آ رہی ہے،جانور سڑکوں پر کھلے عام گھوم رہے ہیں اور حادثات کا سبب بن رہے ہیں جبکہ بلدیہ ملازمین اور ایڈمنسٹریٹر صاحب دیگر شوقین افراد کے ہمراہ فوٹو سیشن کروا کر صفائی مہم کا ڈھونگ رچانے میں مصروف ہیں۔
بیکار سرکار جیسے جملے شاید میونسپل کمیٹی اسلام گڑھ کیلئے ہی تخلیق ہوئے جہاں سرکار کے نکملے ملازمین نے شہر کی صفائی تو نہ کروا سکے مگر حکومتی خزانے کو لاکھوں کی پھکی دے کر تقریباً ہر ملازم نے ایڈوانس تنخواہ کی مد میں قرض لے رکھا ہے اور اسکی واپسی کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔میونسپل کمیٹی کی حدود میں قائم مویشی منڈیوں،جانوروں کے پھاٹک،اشتہاری بورڈز،کمرشل پلازہ جات اور پرائیویٹ ٹاورز سے سالانہ ایک کروڑ سے زائد ریونیو اکھٹا ہوتا ہے جسے آج تک عوام کی فلاح کیلئے استعمال ہوتا نہیں دیکھا گیا۔ایک کروڑ سالانہ ٹیکس کی مد میں اکھٹا ہونے کے بعد تقریباً بیس لاکھ حکومتی بجٹ میں میونسپلٹی کی نظر کر دیا جاتا ہے۔اسلام گڑھ میونسپل کمیٹی کے زیر اہتمام ترقیاتی کام صرف سیاسی بنا پر کیئے جاتے ہیں سابقہ دور میں ایڈمنسٹریٹر عظیم بھٹی نامی شخص نے اپنی ذاتی دوستیوں کو مدنظر رکھا اور موجودہ ایڈمنسٹریٹر عامر رزاق اپنی کم علمی کے باعث انتظامی معاملات سے بلکل نابلد ہے اورپارٹی وفاداروں کو نوازنے پر مجبور ہے۔
میونسپل کمیٹی اسلام گڑھ میں قابلیت کی مثال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ بلدیہ اسلام گڑھ میں فنڈز نہ استعمال کرنے کی وجہ سے علاقہ مسائل کا گڑھ بن چکا وہیں مگرگزشتہ عرصہ میں میونسپل کمیٹی اسلام گڑھ سے چند افراد کے ذاتی فائدے کیلئے لاکھوں روپے مظفرآباد منتقل کر دیئے گے لنکس روڈز کی مرمتی کی متعدد درخوستیں ردی میں ڈال کر افیسران نے لاکھوں روپے خرچ کر کے اپنے دفاتر چمکائے۔بلدیہ اسلام گڑھ کی حدود میں صرف ذاتی علیک سلیک کی بنا پر ترقیاتی کام کیئے اور عوام کو صرف برتھ اور ڈیتھ سرٹفیکیٹس ہی مل پاتے ہیں اسکے لیئے بھی تین گنا زیادہ فیس وصولی سیکریٹری صاحبان کا وتیرا ہے۔
گزشتہ دنوں متعدد دفعہ خبروں کے ذرئعے حکام بالا کے ان مرد مجاہدوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جو ہر ملاقات میں صحافیوں سے مسائل کی نشان دہی کا لاگ الپتے ہیں مگر متعدد بار خبریں چھپنے کے باوجود بلدیہ اسلام گڑھ کے ملازمین کے طور طریقے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔راقم کی ایک ادنہ سی گزارش ہے کہ اس کالم کو تنقید برائے تنقید نہ سمجھا جائے بلکہ تنقید برائے اصلاح سمجھ کر ایکشن لیا جائے اور غریب عوام کے ٹیکس سے ہر ماہ کی شروعات میں ملنے والی تخواہ حق حلال کر کے دیکھائی جائے۔بخثیت ایک شہری اعلی احکام سے گزارش ہے کہ میونسپل کمیٹی اسلام گڑھ کا اڈٹ کریں اور میونسپلٹی سے اس گند کو نکالا جائے جو معاشرے کیلئے ناسور بنا ہے تاکہ آئندہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ سیاسی کھڑپینچوں اور ذاتی عیاشیوں پر نہیں بلکہ عوامی فلاح پر خرچ ہو سکے۔اللہ آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔

Facebook Comments